طلسم بندی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - کسی کو جادو کے اثر میں لانا، جادو گری۔ "یہاں تراکیب کی طلسم بندی کم ہے۔" ( ١٩٧٣ء، نظر اور نظریے، ٣٧ )
اشتقاق
یونانی زبان سے ماخوذ اسم 'طلسما' کے معرب 'طلسم' کے بعد فارسی مصدر 'بستن' کے فعل امر 'بند' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب بنا۔ اردو زبان میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٩١ء کو "بوستانِ خیال" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کسی کو جادو کے اثر میں لانا، جادو گری۔ "یہاں تراکیب کی طلسم بندی کم ہے۔" ( ١٩٧٣ء، نظر اور نظریے، ٣٧ )
جنس: مؤنث